الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ مِقْدَارِ مَكْثِ الْإِمَامِ عَقَبَ الصَّلَاةِ وَجَوَازِ اِنْحَرَافِهِ عَنِ الْيَمِيْنِ أَوِ الشِّمَالِ باب: نماز کے بعد امام کے ٹھہرنے کی مقدار کا اور اس کے دائیںیا بائیں طرف پھرنے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 1844
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ عَنْ يَمِينِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے اپنی دائیں طرف پھرے۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: سدی کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ میں نماز سے فارغ ہونے کے بعد کس سمت کی طرف پھروں۔ انھوں نے کہا: میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زیادہ تر دائیں جانب پھرتے تھے۔ جبکہ اوپر سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میں گزرا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زیادہ تر بائیں جانب پھرتے تھے۔ جمع و تطبیق کییہ صورت ہو گی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی دائیں جانب پھرتے اور کبھی بائیں جانب، ہر ایک راوی نے اپنے مشاہدے کے مطابق جس عمل کو زیادہ پایا، اسے بیان کر دیا، ان میں سرے سے کوئی تضاد نہیں ہے۔