الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ مِقْدَارِ مَكْثِ الْإِمَامِ عَقَبَ الصَّلَاةِ وَجَوَازِ اِنْحَرَافِهِ عَنِ الْيَمِيْنِ أَوِ الشِّمَالِ باب: نماز کے بعد امام کے ٹھہرنے کی مقدار کا اور اس کے دائیںیا بائیں طرف پھرنے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 1841
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: لَا يَجْعَلْ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ مِنْ نَفْسِهِ جُزْءًا لَا يَرَى إِلَّا أَنَّ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ لَا يَنْصَرِفَ إِلَّا عَنْ يَمِينِهِ، لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ أَكْثَرَ انْصِرَافِهِ لَعَلَى يَسَارِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کوئی آدمی شیطان کے لئے اپنے نفس میں سے کوئی حصہ نہ بنائے کہ وہ یہ خیال کرنے لگے کہ اس پر حق ہے کہ وہ نماز سے صرف دائیں جانب پھرے گا، جبکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اکثر پھرنا بائیں جانب ہوتا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے قول سے پتہ چل رہا ہے کہ اگر کسی مسئلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک سے زیادہ طریقے منقول ہوں تو کسی شخص کو زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی ایک کو اپنے اوپر لازم کر دے اور دوسرے کو چھوڑ دے۔