الفتح الربانی
كتاب القدر— تقدیر کے ابواب
بَابٌ فِي ثُبُوتِ الْقَدَرِ وَحَقِيقَتِهِ باب: تقدیر کے ثبوت اور حقیقت کا بیان
حدیث نمبر: 184
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ الزَّمَانَ الطَّوِيلَ بِأَعْمَالِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ثُمَّ يَخْتِمُ اللَّهُ لَهُ بِأَعْمَالِ أَهْلِ النَّارِ فَيَجْعَلُهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ الزَّمَانَ الطَّوِيلَ بِأَعْمَالِ أَهْلِ النَّارِ ثُمَّ يَخْتِمُ اللَّهُ لَهُ عَمَلَهُ بِأَعْمَالِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَجْعَلُهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک آدمی عرصۂ دراز تک جنتی لوگوں والے اعمال کرتا رہتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ جہنمی لوگوں والے اعمال کے ساتھ اس کی زندگی کا اختتام کرتا ہے اور اس طرح اس کو آگ والوں میں سے بنا دیتا ہے، دوسری طرف ایک آدمی کافی عرصے تک آگ والے لوگوں کے اعمال کرتا رہتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ جنتی لوگوں کے افعال کے ساتھ اس کی زندگی کا اختتام کرتا ہے اور اس طرح اس کو اہل جنت میں سے بنا دیتا ہے۔“