حدیث نمبر: 1836
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: كُنَّا نَقُولُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمْنَا: السَّلَامَ عَلَيْكُمْ يُشِيرُ أَحَدُنَا بِيَدِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا بَالُ الَّذِينَ يَرْمُونَ بِأَيْدِيهِمْ فِي الصَّلَاةِ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمْسِ، أَلَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ ثُمَّ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند)انھوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں جب سلام پھیرتے تو اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہتے اور ہم میں سے ہر کوئی اپنے ہاتھ سے دائیں اور بائیں اشارہ بھی کرتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کا کیا حال ہے جو نماز میں اپنے ہاتھوں سے یوں اشارہ کرتے ہیں جیسے وہ سرکش گھوڑوں کی دمیں ہیں، کیاتم میں سے ایک فرد کو اتنا کافی نہیں ہے کہ وہ اپنا ہاتھ ران پر ہی رکھے اور پھردائیں بائیں سلام پھیر دے۔

وضاحت:
فوائد: … حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم واضح ہے اور ہمارے ہاں اسی سنت کے مطابق سلام پھیرا جاتا ہے۔ ایک تنبیہ ضروری ہے کہ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی اس موضوع سے متعلقہ مختصر روایت سے احناف نے یہ استدلال کشید کرنے کی کوشش کی ہے کہ رکوع والے رفع الیدین سے منع کیا جا رہا ہے، لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ ان کا یہ استدلال انتہائی کمزور ہے، کیونکہ تفصیلی روایت میں سلام کے وقت اشارہ کرنے کی وضاحت موجود ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1836
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20972 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21281»