الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَاب حَذْفِ السَّلَامِ وَكَرَاهَةِ الْإِشَارَةِ بِالْيَدِ معه باب: سلام کی تخفیف کا اور اس کے ساتھ ہاتھ کے اشارے کی کراہیت کا بیان
حدیث نمبر: 1835
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ بِأَيْدِينَا يَمِينًا وَشِمَالًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْمُونَ بِأَيْدِيهِمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمْسِ أَلَا يَسْكُنُ أَحَدُكُمْ وَيُشِيرُ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَى صَاحِبِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء میں نماز پڑھتے تو ہاتھوں کے ساتھ دائیں بائیں اشارہ کر کے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کا کیاحال ہے جو نماز میں اپنے ہاتھوں کے ساتھ یوں اشارہ کرتے ہیں جیسے وہ سرکش گھوڑوں کی دمیں ہیں، کیا تم میں سے ہر ایک کو یہ صورت کفایت نہیں کرتی کہ اپنا ہاتھ ران پر ہی رکھے اور دائیں بائیں سلام پھیر دے۔