حدیث نمبر: 1833
عَنْ عَدِيِّ بْنِ عُمَيْرَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ، يُرَى بَيَاضُ إِبْطِهِ، ثُمَّ إِذَا سَلَّمَ أَقْبَلَ بِوَجْهِهِ عَنْ يَمِينِهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ، ثُمَّ يُسَلِّمُ عَنْ يَسَارِهِ وَيُقْبِلُ بِوَجْهِهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ عَنْ يَسَارِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ عدی بن عمیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سجدہ کرتے توآپ کی بغل کی سفیدی نظر آ جاتی، اسی طرح جب سلام پھیرتے تو اپنے چہرے کو دائیں طرف اس قدر متوجہ کرتے کہ رخسار کی سفیدی نظر آجاتی، پھر جب بائیں طرف سلام پھیرتے تو اپنے چہرے کو اتنا پھیرتے کہ بائیں طرف سے چہرے کی سفیدی نظر آ جاتی۔

وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے یہ معلوم ہوا کہ سلام کے الفاظ کے دو طریقے ہیں: (۱) دونوں طرف اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ کہنا اور (۲) دائیں طرف تو یہی الفاظ کہنا، لیکن بائیں طرف صرف اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ کہنا۔ نیزیہ بھی ثابت ہوا کہ دائیں بائیں سلام پھیرتے وقت چہرے کو مکمل طور پر دائیں بائیں پھیرنا چاہیے۔ الفاظ کا تیسرا طریقہیہ ہے کہ دائیں طرف چہرہ پھیرتے ہوئے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہ کہا جائے اور بائیں طرف اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ۔ (ابوداود: ۹۹۷) صرف ایک طرف سلام پھیرنا بھی درست ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ وتر میں ایک ہی سلام پر اکتفا کیا۔ (صحیح مسلم: ۷۴۶) صرف ایک سلام پھیرتے وقت چہرے کو معمولی سا دائیں طرف پھیرا جائے گا۔ (جامع ترمذی: ۲۹۶) نماز سے خارج ہونے کے لیے سلام ہی پھیرنا چاہیے، مذکورہ بالا دلائل میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہی عمل پیش کیا گیا ہے، نیز سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں صرف یہی کافی ہے کہ اپنے ہاتھوں کو اپنی رانوں پر رکھو اور اپنے دائیں بائیں والے بھائیوں پر سلام (یعنی اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ) کہو۔ (صحیح مسلم: ۴۳۱)امام نوویؒ نے کہا: جان لو! سلام نماز کے ارکان میں سے ایک رکن اور فرضوں میں سے ایک فرض ہے، اس کے بغیر نماز صحیح نہیں ہے، یہ مذہب جمہور علماء صحابہؓوتابعینؒ اور ان کے بعد آنے والے لوگوں کا ہے۔ (شرح النووی: ۵/۸۳) اٹھارہ (۱۸)صحابہ کرام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ مبارک فعل روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے خارج ہونے کیلئے سلام کہتے تھے۔ نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((صَلُّوْا کَمَا رَأَیْتُمُوْنِیْ اُصَلِّیْ)) یعنی تم نماز اس طرح پڑھو جیسے مجھے پڑھتے دیکھتے ہو۔ (صحیح بخاری: ۶۳۱)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مِفْتَاحُ الصَّلاَۃِ الطُّہُوْرُ وَتَحْرِیْمُہَا التَّکْبِیْرُ
وَتَحْلِیْلُہَا التَّسْلِیْمُ (وَفِیْ لَفْظٍ) مِفْتَاحُ الصَّلَاۃِ الْوُضُوْئُ وَتَحْرِیْمُہَا التَّکْبِیْرُ وَتَحْلِیْلُہَا التَّسْلِیْمُ۔)) یعنی: نماز کی چابی وضو ہے اور اس کی تحریم اللہ اکبر ہی ہے اور اس کی تحلیل سلام ہی ہے۔ (ابوداود: ۶۱، ۶۱۸، ابن ماجہ: ۲۷۵، الترمذی: ۳، مسند احمد: ۱۰۰۶، ۱۰۷۲) تحریم سے مراد یہ ہے کہ وہ تمام امور حرام ہو جاتے ہیں، جو نماز کے اندر ناجائز ہیں، اور تحلیل سے مطلب یہ ہے کہ جو امور نماز کی وجہ سے حرام ہو گئے تھے، وہ حلال ہو گئے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز میں داخل ہونے کے لیے صرف اللہ اکبر کہا جائے گا اور نماز سے خارج ہونے کے لیے صرف سلام کہا جائے گا۔ چونکہ حدیث ِ مبارکہ میں مذکورہ آخری دو جملوں میں خبر مقدم اور مبتدا مؤخر ہے، اس لیے معنی میں حصر پیدا ہو گیا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی میں نماز سے خارج ہونے کے لیے سلام کا اہتمام کیا، اسی کا حکم دیا اور اسی کا پابند رہنے کی تلقین کی، لہٰذا ہمیں بھی اسی پر عمل کرنا چاہیے۔ لیکن احناف کا مسلک یہ ہے کہ نمازی نماز کے منافی کوئی حرکت کر کے نماز مکمل کر سکتا ہے، سلام پھیرنا ضروری نہیں، جیسے کلام کرکے، جان بوجھ کر وضو توڑ کر، کھڑے ہو کر وغیرہ وغیرہ۔ اگر مذکورہ بالا احادیث ذہن نشین کر لی جائیں تو اس قسم کی رائے کے سوچنے کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1833
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لضعف ابن حريز۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 17/ 263، وابن خزيمة: 650 مختصرا بشطره الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17726 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17878»