الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ جَامِعِ أَدْعِيَةٍ مَنْصُوصٍ عَلَيْهَا فِي الصَّلَاةِ باب: نماز میں جامع منقول دعاؤں کا بیان
حدیث نمبر: 1825
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((يَا مُعَاذُ! إِنِّي لَأُحِبُّكَ)) فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَأَنَا وَاللَّهِ أُحِبُّكَ، قَالَ: ((فَإِنِّي أُوصِيكَ بِكَلِمَاتٍ تَقُولُهُنَّ فِي كُلِّ صَلَاةٍ: اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے ملے اور فرمایا: اے معاذ! بلاشبہ میں تجھ سے محبت کرتا ہوں۔ میں نے جواباًکہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تجھے چند کلمات کی وصیت کرتا ہوں، تو نے ہر نماز میں ان کو پڑھنا ہے، وہ یہ ہیں: اَللّٰہُمَّ أَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ۔ (اے اللہ! اپنا ذکر، شکر اور اچھی عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔)
وضاحت:
فوائد: … عام طور پر چھوٹے کتابچوں میں اس دعا کو نماز کے بعد والے اذکار میں ذکر کیا جاتا ہے، لیکن حقیقتیہ ہے کہ اس کے بعض طرق سے ثابت ہوتا ہے کہ سلام سے پہلے کی دعا ہے، جیسا کہ اس حدیث کے الفاظ سے بھی ثابت ہو رہا ہے۔ جن روایات میں صرف دبر الصلوۃ کے الفاظ ہیں، صرف ان کو دیکھ کر یہ فیصلہ کر دیا گیا ہے کہ یہ دعا سلام کے بعد پڑھی جائے اور دوسرے طرق والے فی کل صلاۃ کے واضح الفاظ نہیں دیکھے گئے، جن سے یہ فیصلہ کرنا آسان ہو جاتا ہے کہ یہ دعا سلام سے پہلے پڑھی جائے۔ جبکہ دبر الصلاۃ کے الفاظ میں بھییہ احتمال پایا جاتا ہے کہ اس سے مراد نماز سے خارج ہونے سے پہلے کہنا ہے۔ یہ مسنون دعائیں ہیں، دیگر احادیث سے بھی بعض دعائیں ثابت ہیں، ان کے علاوہ نمازی کوئی پسندیدہ دعا بھی کر سکتا ہے، جیسا کہ پہلے اس کا بیان ہو چکا ہے۔