حدیث نمبر: 182
عَنْ طَائُوسٍ بْنِ الْيَمَانِيِّ قَالَ: أَدْرَكْتُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُونَ: كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ، قَالَ: وَسَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ حَتَّى الْعَجْزُ وَالْكَيْسُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

طاؤس یمانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: جتنے صحابۂ کرام سے میری ملاقات ہوئی، وہ سب کہتے تھے: ہر چیز تقدیر کے ساتھ معلق ہے اور میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز تقدیر کے ساتھ معلق ہے، حتی کہ بے بسی و لاچارگی اور عقل و دانش بھی۔“

وضاحت:
فوائد: … بے بس کی بے بسی کا اور عقل مند کی عقل کا فیصلہ تقدیر میں ہو چکا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب القدر / حدیث: 182
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2655، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5893 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5893»