حدیث نمبر: 1814
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو فِي الصَّلَاةِ: ((اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَفِتْنَةِ الْمَمَاتِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ)) قَالَتْ: فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ: مَا أَكْثَرَ مَا تَسْتَعِيذُ مِنَ الْمَغْرَمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: ((إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ حَدَّثَ فَكَذَبَ وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ زوجۂ رسول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں یہ دعا کرتے تھے: اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَفِتْنَۃِ الْمَمَاتَ، اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ۔ (اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں قبر کے عذاب سے اور میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں مسیح دجال کے فتنے سے اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں زندگی اور موت کے فتنے سے، اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں گناہ اور قرض سے)۔ کسی آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ آپ قرض سے بہت زیادہ پناہ مانگتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی مقروض ہوتا ہے تو بات کرتا ہے لیکن جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے لیکن اس کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1814
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه بتمامه و مختصرا البخاري: 832، 2397، ومسلم: 589 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24578 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25085»