حدیث نمبر: 1813
عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ بَعْدَ التَّشَهُّدِ فِي الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ كَلِمَاتٍ كَانَ يُعَظِّمُهُنَّ جِدًّا، يَقُولُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، قَالَ: كَانَ يُعَظِّمُهُنَّ وَيَذْكُرُهُنَّ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

جناب طاؤوس نمازِ عشاء میں آخری تشہد کے بعد یہ کلمات پڑھتے تھے اور ان کو بہت عظیم سمجھتے تھے: أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ جَہَنَّمَ، وَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَاوَ الْمَمَاتِ۔ (میں جہنم کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اور میں مسیح دجال کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اور میں قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اور میں زندگی و موت کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔) وہ ان کو عظیم سمجھتے تھے اور ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کرتے تھے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1813
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، ليكن عشاء كي نماز كي قيد لگانا صحيح نهيں هے۔ لم يسمع ابن جريج من ابن طاووس الا حديثا في محرم اصاب ذرات۔ أخرجه عبد الرزاق: 3086، وابن خزيمة: 722 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25648 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26167»