حدیث نمبر: 1811
عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ أَنَّهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح کہا کرو: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّأَزْوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ، وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّأَزْوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔

وضاحت:
فوائد: … درود کے الفاظ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل سے مراد کون لوگ ہیں؟ اس کے بارے میں درج ذیل تین اقوال پیش کیے جاتے ہیں: (۱)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پوری امت (۲) بنو ہاشم اور بنو مطلب
(۳)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت اور اولاد
جس نے جس معنی کو راجح سمجھا، اس نے اس کے حق میں مختلف دلائل تو پیش کیے، لیکن ہمارا نظریہیہ ہے کہ لفظ آل کا پہلا اطلاق تیسرے معنی پر ہی ہوتا ہے، دوسری بات یہ ہے کہ جن روایات میں وَآلِہٍ کی بجائے بخاری اور مسلم میں وَأَزْوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کے الفاظ ہیں، ان سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل کے افراد کی وضاحت ہو رہی ہے، تیسری بات یہ ہے کہ اسی معنی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل کی خاصیت اور امتیاز ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1811
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3369، 6360، ومسلم: 407 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23600 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23998»