حدیث نمبر: 1801
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَقَالَ لَهُ بِشْرُ بْنُ سَعْدٍ: أَمَرَنَا اللَّهُ أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَمَنَّيْنَا أَنَّهُ لَمْ يَسْأَلْهُ، ثُمَّ قَالَ: ((قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَالسَّلَامُ كَمَا قَدْ عَلِمْتُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند)سیدنا عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے ، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس سعد بن عبادہ کی مجلس میں تشریف لائے، سیدنا بشر بن سعد رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آپ پر درودبھیجیں ، پس ہم آپ پر کیسے درود بھیجیں؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہوگئے حتی کہ ہم یہ تمنا کرنے لگے کہ کاش اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال نہ کیا ہوتا، اتنے میں آپ نے فرمایا: تم اس طرح کہا کرو: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ فِی الْعَاَلَمِیْنَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ اور سلام کے بارے میں تو تم جان چکے ہو۔

وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ کا درود کا حکم دینا، اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: {اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗیُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ ط ٰٓیاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا۔} (سورۂ احزاب: ۵۶)
یعنی: بیشک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھی بھیجتے رہا کرو۔ اس درود سے پہلے صحابہ کرام کو تشہد میں اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ … کے الفاظ سے سلام بھیجنے کا طریقہ سکھایا جا چکا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1801
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 405 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22352 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22709»