حدیث نمبر: 1800
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ فَقَالَ: ((قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند)انھوں نے کہا: آپ سے پوچھا گیا کہ ا ے اللہ کے رسول! ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح کہو: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا باَرَکْتَ عَلٰی إِبْرَاہِیْمَ فِی الْعَالَمِیْنَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔

وضاحت:
فوائد: … اُمِّی سے مراد وہ شخص ہے جس نے کسی انسان سے پڑھنا لکھنا نہیں سیکھا،یہ علیحدہ بات ہے کہ وہ اعلی درجے کا دانا، حکیم، فیصل، فصیح، بلیغ بلکہ رسول ہو، جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا دین و دنیا کے بارے میں کچھ نہ جانتا ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1800
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، وانظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17067 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17194»