حدیث نمبر: 18
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ يَقُولُ: ((اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ الْحَقُّ، وَقَوْلُكَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَأَخَّرْتُ وَأَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ الْحَقُّ، وَقَوْلُكَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَأَخَّرْتُ وَأَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَٰهِي لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنْتَ» ”اے اللہ! تیرے لیے ہی تعریف ہے، تو آسمانوں، زمین اور ان کے درمیان والوں کا نور ہے، اور تیرے لیے ہی تعریف ہے، تو آسمانوں، زمین اور ان میں موجود کو قائم رکھنے والا ہے اور تیرے لیے ہی تعریف ہے، تو آسمانوں، زمین اور ان کے درمیان والوں کا رب ہے اور تیرے لیے ہی تعریف ہے، تو حق ہے، تیری بات حق ہے، تیرا وعدہ حق ہے، تیری ملاقات حق ہے، جنت حق ہے، جہنم حق ہے، قیامت حق ہے، اے اللہ! میں تیرے لیے مسلمان ہوا، تجھ پر ایمان لایا، تجھ پر بھروسہ کیا، تیری طرف رجوع کیا، تیرے ساتھ جھگڑا کیا اور تیری طرف فیصلہ لے کر آیا، پس تو میرے لیے میرے وہ گناہ بخش دے، جو پہلے کیے، جو بعد میں کیے، جو مخفی طور پر کیے اور جو اعلانیہ طور پر کیے، تو میرا معبود ہے، تیرے علاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں ہے۔“

وضاحت:
فوائد: … وہ کمال اور کمال کے تقاضوں سے متصف ہے، وہ سبحان ہے اور تمام معائب و نقائص سے پاک ہے، وہ الوہیت و ربوبیت جیسی عظیم صفات کا مالک ہے، وہ اس لائق ہے کہ جبینِ نیاز کو اس کے سامنے رکھا جائے اور زندگی کے کسی پہلو میں اس کو فراموش نہ کیا جائے، کون ہے جو ا س کی شان کے مطابق اس کی اطاعت کر سکے اور اس کا شکر ادا کرنے کے تقاضے پورے کر سکے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب التوحيد / حدیث: 18
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1120، 6317، ومسلم: 769، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2710 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2710»