حدیث نمبر: 1790
عَنْ شُعْبَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ قَوْلِ الرَّجُلِ بِإِصْبَعِهِ يَعْنِي هَٰكَذَا فِي الصَّلَاةِ قَالَ ذَٰكَ الْإِخْلَاصُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا وائل بن حجر حضرمی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: پھر آپ بیٹھے،بایاں پاؤں بچھا دیا، بائیں ہتھیلی ران اور بائیں گھٹنے پر رکھی اور دائیں کہنی کو بائیں ران سے اٹھا کر رکھا، پھر أپنی انگلیاں بند کرکے حلقہ بنایا۔ اور ایک روایت میں ہے: انگوٹھے اور درمیانی (انگلی) کا حلقہ بنایا اورسبابہ سے اشارہ کیا۔ پھر اپنی انگلی اٹھائی تو میں نے آپ کو دیکھا آپ اسے ہلا کر اس کے ساتھ دعا کرتے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … سَبَّابہ کے معانی برا بھلا کہنے والی اور سَبَّاحہ کے معانی پاکی بیان کرنے والی کے ہیں۔یہ دونوں انگشت ِ شہادت کے اوصاف ہیں، کیونکہ کسی کو گالی دیتے وقت یا اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتے وقت عام طور پر اسی انگلی سے اشارہ کیا جاتا ہے۔ ہم نے قارئین کی آسانی کے لیے ان الفاظ کا ترجمہ انگشت ِ شہادت کیا، کیونکہ ہمارے ہاں اس انگلی کو یہی نام دیا جاتا ہے، بہرحال بعض مقامات پر لفظ سَبَّابہ کا ذکر بھی آئے گا۔ دورانِ تشہد اشارے والی احادیث میں دعا کرنے سے مراد پورا تشہد، دعائیں اور درود ہوتا ہے۔
بنو تمیم کا ایک آدمی کہتا ہے: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے آدمی کا نماز میں انگلی کے ساتھ اشارہ کرنے کے بارے میں پوچھا توانہوں نے کہا: یہ اخلاص ہے۔
فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا مقصد یہ ہے کہ تشہد میں انگلی سے اشارہ کرنا اخلاص اور توحید پر دلیل ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1790
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن، وھذا اسناد ضعيف لجھالة الرجل الذي من بني تميم، واسمه اربدة التميمي البصري۔ أخرجه البيھقي: 2/ 133 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3152 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3152»