الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
2 - بَابُ هَيْئَةِ الْجُلُوسِ لِلتَّشَهُّدِ وَالْإِشَارَةِ بِالسَّبَّابَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ باب: تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت،انگشت ِ شہادت سے اشارہ کرنے کا اور دوسرے امور کا بیان
حدیث نمبر: 1788
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي صِفَةِ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: وَكَانَ يَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ التَّحِيَّةَ، وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَفْتَرِشَ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ السَّبُعِ، وَكَانَ يَفْرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ الْيُمْنَى، وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عَقِبِ الشَّيْطَانِ، وَكَانَ يَخْتِمُ الصَّلَاةَ بِالتَّسْلِيمِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں:آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر دو رکعتوں میں التحیات پڑھتے تھے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ناپسند کرتے تھے کہ آدمی (سجدے میں) اپنے بازؤں کو درندے کی طرح بچھائیں، آپ بائیں پاؤں کو بچھا لیتے اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھتے تھے اور آپ شیطان کی بیٹھک سے منع فرماتے تھے اور آپ نمازکو سلام کے ساتھ ختم کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … شیطان کی بیٹھک سے مراد اِقْعَائ کی ناجائز صورت ہے، گزشتہ حدیث میں اس کا بیان ہو چکا ہے۔