الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
1 - بَابُ مَا وَرَدَ فِي أَلْفَاظِهِ باب: اس کے الفاظ کے بارے میں ثابت ہونے والے مواد کا بیان¤فَصْلٌ فِیْمَا رُوِیَ فِیْ ذٰلِکِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ¤فصل: سیدناعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی تشہد
حدیث نمبر: 1782
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنْحْوِهِ وَفِيهِ: كُنَّا إِذَا جَلَسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ قِبَلَ عِبَادِهِ، السَّلَامُ عَلَى جِبْرِيلَ، السَّلَامُ عَلَى مِيكَائِيلَ، السَّلَامُ عَلَى فُلَانٍ، الْحَدِيثُ كَمَا تَقَدَّمَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)اس میں ہے: جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازمیں بیٹھتے تو کہتے: اَلسَّلَامُ عَلَی اللّٰہِ قِبَلَ عِبَادِہِ، اَلسَّلَامُ عَلٰی جِبْرِیْلَ، اَلسَّلاَمُ عَلٰی مِیْکَائِیلَ، اَلسَّلَامُ عَلَی فُلاَنٍ۔ (اللہ پر سلام ہو اس کے بندوں کی طرف سے، جبریل پر سلام ہو، میکائیل پر سلام ہو، فلاں پر سلام ہو، … … ۔ آگے پہلی حدیث کی طرح۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن مسعور رضی اللہ عنہ سے مروی تشہد ہی عام لوگوں کو یاد ہے، قارئین کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ جب لوگوں کو اس تشہد کی تعلیم دی جا رہی تھی، اس وقت نماز میں درود شریف پڑھنے کا مسئلہ پیدا نہیں ہوا تھا، اس لیے ان روایات میں صرف تشہد اور دعاؤں کا ذکر ہے، درود کے مسئلے کی وضاحت آگے آ رہی ہے۔ اس مقام پر یہ تنبیہ بھی ضروری ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی تشہد کی طرح دوسرے صحابہ سے بھی اس تشہد کی احادیث مروی ہیں، جن کے الفاظ اِس تشہد سے مختلف ہیں، تو یہ ورائٹی خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے، اس لیے جو تشہد بھی پڑھ لیا جائے وہ کفایت کرے گا۔ یہ تو ثابت ہو چکا ہے کہ پہلے اور درمیانے تشہد میں بھی نمازی کو مختلف اور پسندیدہ دعائیں کرنے کا اختیار ہے، دوسری بات یہ ہے کہ اِس تشہد میں درود پڑھنا بھی درست ہے، اس کی دلیل درج ذیل حدیث ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو نو رکعت (اکٹھی) نمازِ وتر ادا کرتے، مسلسل آٹھ رکعات ادا کرنے کے بعد (درمیانے تشہد) کیلئے بیٹھتے، اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرتے اور نبی پر درود بھیجتے اور سلام پھیرے بغیر کھڑے ہو کر نویں رکعت ادا کرنے کے بعد بیٹھتے، اللہ کی حمد بیان کرتے، نبی پر درود بھیجتے، دعا کرتے اورسلام پھیر دیتے۔(نسائی: ۱۷۲۱)