حدیث نمبر: 1778
عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ مُحَمَّدًا عُلِّمَ فَوَاتِحَ الْخَيْرِ وَجَوَامِعَهُ وَخَوَاتِمَهُ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ: وَإِنَّا كُنَّا لَا نَدْرِي مَا نَقُولُهُ فِي صَلَاتِنَا حَتَّى عَلَّمَنَا) فَقَالَ: ((إِذَا قَعَدْتُّمْ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ فَقُولُوا: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ (فَذَكَرَ مِثْلَ مَا تَقَدَّمَ إِلَى قَوْلِهِ عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ) قَالَ ثُمَّ لِيَتَخَيَّرْ أَحَدُكُمْ مِنَ الدُّعَاءِ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ فَلْيَدْعُ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بلاشبہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خیر و بھلائی کی ابتدائی، جامع اور اختتامی چیزوں کی تعلیم دی گئی تھی، جبکہ ہم نہیں جانتے تھے کہ ہم نماز کے (تشہد) میں کیا کہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس چیز کی تعلیم دی اور فرمایا: جب تم دو رکعتوں کے بعد بیٹھو تو پڑھو: اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ … … عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ پھر تم سے ہر کوئی اپنی پسندیدہ دعا کا انتخاب کرے اور اس کے ساتھ اپنے ربّ کو پکارے۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے ثابت ہوا کہ درمیانے تشہد میں بھی خیر و بھلائی پر مشتمل کوئی دعا کی جا سکتی ہے، بعض مقتدی عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ تک پڑھ کر امام کی انتظار میں خاموش بیٹھے رہتے ہیں،یہ تعلیم کی کمی کے نتائج ہیں۔ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خیر و بھلائی کی ابتدائی، جامع اور اختتامی چیزوں کی تعلیم دی گئی تھی۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جوامع الکلم عطا کیے گئے تھے، سمندر کو کوزے میں بند کر دینا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلام کا وصف تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گفتگو فصاحت و بلاغت کی شاہکار ہوتی تھی۔
ابتدائی اور اختتامی کلمات دئیے جانے کا مطلب ہے کہ آپ کو خیر و بھلائی کی ہر قسم کی باتوں کی تعلیم دی گئی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1778
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 831، ومسلم: 402 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3622، 4160 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4160»