الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
1 - بَابُ مَا وَرَدَ فِي أَلْفَاظِهِ باب: اس کے الفاظ کے بارے میں ثابت ہونے والے مواد کا بیان¤فَصْلٌ فِیْمَا رُوِیَ فِیْ ذٰلِکِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ¤فصل: سیدناعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی تشہد
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ وَفِي آخِرِهَا، فَكُنَّا نَحْفَظُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ حِينَ أَخْبَرَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهُ إِيَّاهُ، فَكَانَ يَقُولُ إِذَا جَلَسَ فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ وَفِي آخِرِهَا عَلَى وَرِكِهِ الْيُسْرَى ((التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ)) قَالَ: ثُمَّ إِنْ كَانَ فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ نَهَضَ حِينَ يَفْرُغُ مِنْ تَشَهُّدِهِ، وَإِنْ كَانَ فِي آخِرِهَا دَعَا بَعْدَ تَشَهُّدِهِ بِمَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْعُو ثُمَّ يُسَلِّمُسیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز کے درمیان میں اور اس کے آخر میں تشہد سکھایا،اسود بن یزید کہتے ہیں: ہم سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے یادکرتے تھے جب انہوں نے ہمیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو تشہد کی تعلیم دی تھی، پس وہ کہتے تھے: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے درمیان میں اور اس کے آخر میں بائیں سرین پر بیٹھتے تو پڑھتے: اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبرَکَاتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ،أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہُ۔ پھراگرنمازکےدرمیان میں ہوتے تو تشہد سے فارغ ہونے کے بعد (تیسری رکعت کے لئے) کھڑے ہوجاتے اور اگر نماز کے آخر میں ہوتے تو اتنی دعائیں کرتے، جتنی اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتیں، پھر سلام پھیر دیتے۔ تشہد کا ترجمہ:تمام قولی، بدنی اور مالی عبادتیں صرف اللہ کیلئے ہیں، اے نبی: آپ پر اللہ کی سلامتی اور اللہ کی رحمت اور برکتیں ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر (بھی) سلامتی ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں (یہ بھی) گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔
الصَّلَوَاتُ: پانچ نمازیں، ہر نماز، تمام عبادات، دعائیں، رحمت
الطَّیِّبَاتُ: پاکیزہ کلام، اللہ کا ذکر، اعمالِ صالحہ