الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ حُجَّةِ الْقَائِلِينَ بِعَدَمِ الْقُنُوتِ فِي الصُّبْحِ إِلَّا عِنْدَ النَّوَازِلِ باب: ان لوگوں کی دلیل کا بیان جو صبح کی نماز میں مصائب کے علاوہ قنوت نہ کرنے کے قائل ہیں
حدیث نمبر: 1773
عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي: يَا أَبَتِ! إِنَّكَ قَدْ صَلَّيْتَ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَعَلِيٍّ هَٰهُنَا بِالْكُوفَةِ قَرِيبًا مِنْ خَمْسِ سِنِينَ، أَكَانُوا يَقْنُتُونَ؟ قَالَ: أَيْ بُنَيَّ مُحْدَثٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو مالک اشجعی کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ سے کہا: ا ے ا باجان: بلاشبہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدناعمر، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کی اقتدا میں اور یہاں کوفہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے پانچ سال نمازیں پڑھی ہیں، تو کیایہ لوگ قنوت کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: اے میرے پیارے بیٹےیہ ایک نئی چیز ہے۔