الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْجَهْرِ بِالْقُنُوتِ باب: بلند آواز سے قنوت کرنے کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ وَالصُّبْحِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ إِذَا قَالَ ((سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ)) مِنَ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ، يَدْعُو عَلَيْهِمْ، عَلَى حَيٍّ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ وَيَوْمٍ مِنْ مَنْ خَلْفَهُ، أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ يَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَقَتَلُوهُمْ، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ قَالَ وَقَالَ عِكْرِمَةُ هَٰذَا كَانَ مِفْتَاحَ الْقُنُوتِسیدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلسل ایک ماہ ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازوں میں قنوت کی، جب آپ آخری رکعت میں سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے تویہ قنوت کرتے، جس میں بنو سلیم کے ایک قبیلے رِعل، ذکوان اور عصیہ پر بددعا کرتے اور پیچھے والے مقتدی آمین کہتے، اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ صحابہ کو ان لوگوں کی طرف اسلام کی دعوت دینے کے لئے بھیجا، لیکن انہوں نے انہیں قتل کردیا۔ عفان نے اپنی حدیث میں کہا ہے کہ عکرمہ کہتے تھے کہ یہ قنوت شروع ہونے کا سبب تھا۔