الفتح الربانی
كتاب الإيمان و الإسلام— ایمان اور اسلام کی کتاب
بَابٌ فِيمَا جَاءَ فِي رَفْعِ الْأَمَانَةِ وَالْإِيمَانِ باب: امانت اور ایمان کے اٹھ جانے کا بیان
حدیث نمبر: 177
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: تَدُورُ رَحَى الْإِسْلَامِ بِخَمْسٍ (وَفِي رِوَايَةٍ: عَلَى رَأْسِ خَمْسٍ) وَثَلَاثِينَ أَوْ سِتٍّ وَثَلَاثِينَ أَوْ سَبْعٍ وَثَلَاثِينَ فَإِنْ يَهْلِكُوا فَسَبِيلُ مَنْ قَدْ هَلَكَ وَإِنْ يَقُمْ لَهُمْ دِينُهُمْ يَقُمْ لَهُمْ سَبْعِينَ عَامًا، قَالَ: قُلْتُ: أَمِمَّا مَضَى أَمْ مِمَّا بَقِيَ؟ قَالَ: مِمَّا بَقِيَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پینتیس یا چھتیس یا سینتیس سالوں کے بعد اسلام کی چکی گھومے گی، اس کے بعد اگر وہ (گمراہ رہ کر) ہلاک ہوئے تو وہ پہلے ہلاک ہونے والوں کی طرح ہوں گے اور اگر ان کے لیے ان کا دین قائم رہا تو وہ ستر سال تک قائم رہے گا۔“ میں نے کہا اور ایک روایت کے مطابق سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ کے نبی! ماضی سمیت یا مستقل ستر سال؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مستقل ستر سال۔“