حدیث نمبر: 1764
عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنِ الْقُنُوتِ أَقَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَ الرُّكُوعِ؟ فَقَالَ: قَبْلَ الرُّكُوعِ، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ؟ فَقَالَ: كَذَبُوا، إِنَّمَا قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى نَاسٍ قَتَلُوا أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ يُقَالُ لَهُمُ الْقُرَّاءُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

عاصم احول کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے قنوت کے متعلق سوال کیا کہ آیا وہ رکوع سے پہلے ہے یا اس کے بعد؟ انہوں نے جواب دیا: رکوع سے پہلے ہے۔ میں نے کہا: لوگوں کا تو یہ خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کے بعد قنوت کی تھی،یہ سن کرانہوں نے کہا: لوگوں سے غلطی ہوئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف ایک مہینہ قنوت کی ہے جس میں آپ ان لوگوں پربد دعا کرتے تھے جنہوں نے آپ کے ان صحابہ کو قتل کر دیا تھا، جن کو قرّاء کہا جاتا تھا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1764
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1002، 3170، ومسلم: 677 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12705 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12735»