الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ الْقُنُوتِ فِي الصُّبْحِ وَسَبَبِهِ وَهَلْ هُوَ قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَهُ باب: صبح میں قنوت اور اس کا سبب اورکیا وہ رکوع سے پہلے ہے یا اس کے بعد؟
حدیث نمبر: 1763
عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ هَلْ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ بَعْدَ الرُّكُوعِ، ثُمَّ سُئِلَ بَعْدَ ذَلِكَ مَرَّةً أُخْرَى هَلْ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ قَالَ بَعْدَ الرُّكُوعِ يَسِيرًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابن سیرین کہتے ہیں کہ سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قنوت کی ہے؟ انہوں نے جواب دیا:ہاں رکوع کے بعد کی ہے۔ اس کے بعد پھر ایک دفعہ ان سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کی نماز میں قنوت کی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی، رکوع کے بعد کچھ عرصہ تک کی ہے۔