الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ الْقُنُوتِ فِي الصُّبْحِ وَسَبَبِهِ وَهَلْ هُوَ قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَهُ باب: صبح میں قنوت اور اس کا سبب اورکیا وہ رکوع سے پہلے ہے یا اس کے بعد؟
عَنْ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءِ بْنِ رَحْضَةَ الْغِفَارِيِّ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ وَنَحْنُ مَعَهُ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الْأَخِيرَةِ قَالَ: ((لَعَنَ اللَّهُ لِحْيَانَ وَرِعْلًا وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ، عَصَوُا اللَّهَ وَرَسُولَهُ، أَسْلَمُ سَلَّمَهَا اللَّهُ، وَغِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا، ثُمَّ وَقَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَاجِدًا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَرَأَ عَلَى النَّاسِ: ((يَا أَيُّهَا النَّاسُ! إِنِّي أَنَا لَسْتُ قُلْتُهُ، وَلَكِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَهُ)) (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) قَالَ حُفَافٌ فَجُعِلَتْ لَعْنَةُ الْكَفَرَةِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَسیدنا خفاف بن ایماء غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی، جبکہ ہم آپ کے ساتھ تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آخری رکوع سے سر اٹھایا تو یہ بد دعا کی: اللہ لعنت کرے، لحیان پر، رعل پر، ذکوان پر اور عصیہ پر، انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے۔ اسلم کو اللہ سلامت رکھے اورغفار کو اللہ معاف فرمائے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے میں گر پڑے،جب آپ (نماز سے)فارع ہوئے تو فرمایا: اے لوگو! میں نے یہ کلمات نہیں کہے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے کہے ہیں۔ ایک روایت میں ہے: خفاف نے کہا: اسی وجہ سے کافروں پر لعنت کرنا بنا دیا گیا۔