حدیث نمبر: 1762
عَنْ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءِ بْنِ رَحْضَةَ الْغِفَارِيِّ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ وَنَحْنُ مَعَهُ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الْأَخِيرَةِ قَالَ: ((لَعَنَ اللَّهُ لِحْيَانَ وَرِعْلًا وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ، عَصَوُا اللَّهَ وَرَسُولَهُ، أَسْلَمُ سَلَّمَهَا اللَّهُ، وَغِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا، ثُمَّ وَقَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَاجِدًا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَرَأَ عَلَى النَّاسِ: ((يَا أَيُّهَا النَّاسُ! إِنِّي أَنَا لَسْتُ قُلْتُهُ، وَلَكِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَهُ)) (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) قَالَ حُفَافٌ فَجُعِلَتْ لَعْنَةُ الْكَفَرَةِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا خفاف بن ایماء غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی، جبکہ ہم آپ کے ساتھ تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آخری رکوع سے سر اٹھایا تو یہ بد دعا کی: اللہ لعنت کرے، لحیان پر، رعل پر، ذکوان پر اور عصیہ پر، انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے۔ اسلم کو اللہ سلامت رکھے اورغفار کو اللہ معاف فرمائے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے میں گر پڑے،جب آپ (نماز سے)فارع ہوئے تو فرمایا: اے لوگو! میں نے یہ کلمات نہیں کہے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے کہے ہیں۔ ایک روایت میں ہے: خفاف نے کہا: اسی وجہ سے کافروں پر لعنت کرنا بنا دیا گیا۔

وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کسی قوم کے لیے دعا کرنا اور کسی کے لیے بددعا کرنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کی روشنی میں ہوتا تھا، غفار قبیلہ قدیم اسلام والا تھا اور اسلم قبیلے نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مصالحت کی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1762
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 679 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16571 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16687»