الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ الْقُنُوتِ فِي الصُّبْحِ وَسَبَبِهِ وَهَلْ هُوَ قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَهُ باب: صبح میں قنوت اور اس کا سبب اورکیا وہ رکوع سے پہلے ہے یا اس کے بعد؟
حدیث نمبر: 1761
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا رَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ (وَفِي رِوَايَةٍ الْفَجْرِ) قَالَ: ((اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ (وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْجِ الْوَلِيدَ) ابْنَ الْوَلِيدِ وَسَلَمَةَ ابْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ بِمَكَّةَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطَأَتَكَ عَلَى مُضَرَ وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِينِ يُوسُفَ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کی نماز میں آخری رکوع سے سر اٹھایا تو یہ دعا کی: اے اللہ: ہمارے رب! اورتیرے لئے ہی ساری تعریف ہے، تو ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اورمکہ کے کمزوروں کو نجات دے دے، اے اللہ! مضر قبیلے پر اپنا عذاب سخت کردے اوراسے ان پر یوسف علیہ السلام کے زمانے کی قحط سالی کی طرح قحط کر دے۔