الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ الْقُنُوتِ فِي الصُّبْحِ وَسَبَبِهِ وَهَلْ هُوَ قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَهُ باب: صبح میں قنوت اور اس کا سبب اورکیا وہ رکوع سے پہلے ہے یا اس کے بعد؟
حدیث نمبر: 1760
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ، قَالَ: ((رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ)) فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ، ثُمَّ قَالَ: ((اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا … )) دَعَا عَلَى نَاسٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: {لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ}ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز فجر میں جب رکوع سے سر اٹھایا تو فرمایا: رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ یہ آخری رکعت کی بات تھی، پھر یہ بد دعا کرنے لگے: اے اللہ! تو فلاں پر لعنت کر، … ۔ منافق لوگوں پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بددعا کی، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: (اے پیغمبر!) آپ کے اختیار میں کچھ نہیں، اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کی توبہ قبول کر لے یا عذاب دے، کیونکہ وہ ظالم ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … مسند احمد: ۵۶۷۴ کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حارث بن ہشام، سہیل بن عمرو اور صفوان بن امیہ کا نام لے کر ان پر لعنت کی ہے۔ امام بخاری (۴۰۷۰) نے اس کو مرسلاً ذکر کیا ہے۔