حدیث نمبر: 1757
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: مَا وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَرِيَّةٍ مَا وَجَدَ عَلَيْهِمْ، كَانُوا يُسَمُّونَ الْقُرَّاءَ، قَالَ سُفْيَانُ نَزَلَ فِيهِمْ: بَلِّغُوا قَوْمَنَا عَنَّا أَنَّا قَدْ رَضِينَا وَرَضِيَ عَنَّا، قِيلَ لِسُفْيَانَ: فِي مَنْ نَزَلَتْ؟ قَالَ: فِي أَهْلِ بِئْرِ مَعُونَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی دستے پر اتنا غم محسوس نہیں کیا جتنا ان لوگوں پر محسوس کیا، ان کو قراء کہا جاتا تھا،سفیان کہتے ہیں: ان لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: {بَلِّغُوْا قَوْمَنَا عَنَّا أَنَّا قَدْ رَضِیْنَا وَرَضِیَ عَنَّا} یعنی: ہماری قوم کو یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم (اپنے رب سے) راضی ہو گئے ہیں اور وہ ہم سے راضی ہو گیا ہے۔ کسی نے امام سفیان سے پوچھا کہ یہ آیت کن لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی؟ انھوں نے کہا: بئر معونہ والوں کے بارے میں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1757
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 677، وانظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12087 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12111»