حدیث نمبر: 1750
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب سجدہ کی حالت میں ہوتا ہے اس لیے تم اس میں کثرت سے دعا کیا کرو۔

وضاحت:
فوائد: … سجدہ کے بعض اذکار کا ذکر پیچھے رکوع میں ذکر کا بیان کے باب میں ہو چکا ہے، اس وقت عوام و خواص کییہ صورتحال ہے کہ وہ سجدہ میں صرف سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی کہنے کو کافی سمجھتے ہیں اور وہ بھی جلدی جلدی اور اس کے معنی پر غور کیے بغیر۔ جواز کی حد تک تو یہ ذکر کرنا درست ہے، لیکن ہماری صورتحال کو دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ عدم رغبت کی علامت ہے اور لوگوں نے عبادات کے سلسلے میں گزارا کرنے کو کافی سمجھ لیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدوں میں مختلف اذکار اور دعاؤں کی تعلیم دی ہے تو اس میں بہت بڑی حکمت ہے اور وہ یہ ہے نمازی اس کے معانی کو سمجھے، اس میں زیادہ عاجزی و انکساری پیدا ہو اور نماز کے خشوع و خضوع میں اضافہ ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1750
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 482 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9461 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9442»