الفتح الربانی
كتاب الإيمان و الإسلام— ایمان اور اسلام کی کتاب
بَابٌ فِي الْوَقْتِ الَّذِي يَضْمَحِلُّ فِيهِ الْإِيمَانُ باب: اس وقت کا بیان، جس میں ایمان انحطاط پذیر ہو جائے گا
حدیث نمبر: 175
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَقَدْ سَمِعْتُ حَدِيثًا مُنْذُ زَمَانٍ إِذَا كُنْتَ فِي قَوْمٍ عِشْرِينَ رَجُلًا أَوْ أَقَلَّ أَوْ أَكْثَرَ فَتَصَفَّحْتَ فِي وُجُوهِهِمْ فَلَمْ تَرَ فِيهِمْ رَجُلًا يُهَابُ فِي اللَّهِ فَاعْلَمْ أَنَّ الْأَمْرَ قَدْ رَقَّترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ”کافی عرصہ ہو گیا ہے کہ میں نے ایک بات سنی تھی، جب تو بیس یا اس سے کم یا زیادہ لوگوں میں ہو اور پھر ان کے چہروں کو غور سے دیکھے، اگر ان میں تجھے ایک چہرہ بھی ایسا نہ لگے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے جس کی تعظیم و تکریم کی جاتی ہو، تو جان لینا کہ ایمان کمزور پڑ چکا ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث ِ نبوی نہیں ہے،ویسے سیدنا عبد اللہ بن بسرؓکی سنی ہوئی ایک بات ہے، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ جب محبت و مودّت اور نفرت و عداوت کا معیار اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی ذات نہ رہے تو دین میں کمزوری پیدا ہو جاتی ہے۔