الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ الدُّعَاءِ فِي السُّجُودِ وَمَا يُقَالُ فِيهِ مِنَ الْأَذْكَارِ غَيْرِ مَا مُدَّ فِي الرُّكُوعِ باب: سجدے کی دعاؤں اور اذکار کا بیان، ان کے علاوہ جو رکوع میں گزر چکے ہیں
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: افْتَقَدْتُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ فَتَحَسَّسْتُ (وَفِي رِوَايَةٍ فَطَلَبْتُهُ) ثُمَّ رَجَعْتُ فَإِذَا هُوَ رَاكِعٌ أَوْ سَاجِدٌ يَقُولُ: ((سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ)) (وَفِي رِوَايَةٍ فَإِذَا هُوَ سَاجِدٌ يَقُولُ: ((رَبِّ اغْفِرْ لِي مَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ)) فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي إِنَّكَ لَفِي شَأْنٍ وَأَنَا فِي شَأْنٍ آخَرَ)سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی روایت ہے، وہ کہتی ہیں: ایک رات میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گم پایا، مجھے یہ خیال آیا کہ آپ کسی دوسری بیوی کی طرف چلے گئے ہیں، پس میں نے ٹوہ لگائی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تلاش کیا۔لیکن جب واپس آئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع یا سجدے کی حالت میں یہ دعا پڑھ رہے ہیں: سُبْحَانَکَ وَبِحَمْدِکَ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ أَنْتَ (تو پاک ہے اور اپنی حمد کے ساتھ ہے، تیرے علاوہ کوئی معبودنہیں ہے۔) اورایک روایت میں ہے: آپ سجدے میں یہ دعا پڑھ رہے تھے: رَبِّ اغْفِرْلِیْ مَا اَسْرَرْتُ وَمَا اَعْلَنْتُ (اے میرے رب! میرے لیے میرے مخفی اور اعلانیہ گناہ بخش دے۔) یہ دیکھ کر میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں،بیشک میں کسی اور وہم و گمان میں تھی اور آپ کسی اور کام میں ہیں۔