حدیث نمبر: 1748
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا فَقَدَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَضْجَعِهِ فَلَمَسَتْهُ بِيَدِهَا فَوَقَعَتْ عَلَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ وَهُوَ يَقُولُ: ((رَبِّ أَعْطِ نَفْسِي تَقْوَاهَا، زَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا، أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بستر سے گم پایا، اس لیے ہاتھ کے ساتھ آپ کو تلاش کیا، جب ان کا ہاتھ آپ کو لگا تو (ان کو پتا چلتا ہے کہ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے کی حالت میں ہیں اور یہ دعا کر رہے ہیں: رَبِّ أَعْطِ نَفْسِیْ تَقْوَاھَا، زَکِّہَا أَنْتَ خَیْرُ مَنْ زَکَّاھَا، أَنْتَ وَلِیُّہَا وَمَوْلاَ ھَا۔ (اے میرے رب! میرے نفس کو اس کا تقوی دے دے ، اسے پاک کردے تو سب سے بہتر ذات ہے، جو اسے پاک کرنے والی ہے، توہی اس کا ولی ہے اورمولی ہے۔)

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا ایک سیاق درج ذیل ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بستر پر گم پایا، (چونکہ اندھیرا تھا، اس لیے) میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہاتھ سے تلاش کیا، جب میرا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں کے تلووں پر پڑا تو میں نے محسوس کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں گڑھے ہوئے ہیں اور آپ اپنی مسجد میں ہیں اور یہ دعا پڑھ رہے ہیں: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِرَضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ وَبِمُعَافَاتِکَ مِنْ عُقُوْبَتِکَ، وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْکَ لَا أُحْصِیْ ثَنَائً عَلَیْکَ اَنْتَ کَمَا اَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ۔ (مسلم: ۴۸۶، مسند احمد: ۲۵۶۵۵) البتہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث میں جس دعا رَبِّ اَعْطِنِیْ تَقْوَاھَا … کا ذکر ہے، یہ الفاظ زید بن ارقم کی حدیث سے ثابت ایک دعا میں موجود ہیں۔ (دیکھیں: مسلم: ۲۷۲۲، مسند احمد: ۱۹۳۰۸)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1748
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «رجاله ثقات رجال الشيخين غير صالح بن سعيد، فقد روي عنه نافع بن عمر الجمحي، وذكره ابن حبان في الثقات ۔ وانظر الشرح ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26276»