الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ سُجُودِ الْمُصَلِّي عَلَى ثَوْبِهِ لِحَاجَةٍ وَكَيْفَ يَسْجُدُ مَنْ زُوحِمَ باب: کسی ضرورت کی وجہ سے نمازی کا اپنے کپڑے پر سجدہ کرنے،¤نیز ہجوم والا شخص سجدہ کیسے کرے، اس کا بیان
حدیث نمبر: 1741
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ فَإِذَا لَمْ يَسْتَطِعْ أَحَدُنَا أَنْ يُمَكِّنَ وَجْهَهُ مِنَ الْأَرْضِ بَسَطَ ثَوْبَهُ فَيَسْجُدُ عَلَيْهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ہم گرمی کی شدت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے، جب ہم میں سے کوئی شخص اپنے چہرے کو زمین پر رکھنے کی استطاعت نہ رکھتا تو وہ اپنا کپڑا بچھا کر اس پر سجدہ کرلیتا۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث کا معنییہ ہوا کہ نمازی نے جو لباس پہنا ہوا ہو، اگر وہ دورانِ سجدہ پیشانی، ناک اور ہاتھوں کے سامنے حائل ہو جائے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔