حدیث نمبر: 1739
عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَمِّهِ قَالَ: كَانَتْ لِي جُمَّةٌ كُنْتُ إِذَا سَجَدْتُ رَفَعْتُهَا، فَرَآنِي أَبُو حَسَنِ الْمَازِنِيُّ فَقَالَ: تَرْفَعُهَا لَا يُصِيبُهَا التُّرَابُ؟ وَاللَّهِ! لَأَحْلِقَنَّهَا فَحَلَقَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

عمر بن یحییٰ اپنے باپ یا چچا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میرے کندھوں تک لمبے بال تھے، اس لیے جب میں سجدہ کرتا تو انہیں اٹھا لیتا تھا، ابو حسن مازنی نے مجھے ایسے کرتا دیکھ کرکہا: تو ان کو اٹھا لیتا ہے تاکہ انہیں مٹی نہ لگے؟ اللہ کی قسم! میں انہیں ضرور مونڈ دوں گا پھر انہوں نے ان بالوں کو مونڈ دیا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … ابو حسن مازنی، عمرو بن یحییٰ کا دادا تھا، اس نے اپنے پوتے کو ایک سنت کی مخالفت کرنے کی وجہ سے اور اس کی تربیت کرنے کے لیے اس کا سر منڈوا دیا تھا، آج بھی بڑوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1739
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «ھذا الأثر ضعيف، للشك بين والد عمرو بن يحييٰ أو عمه، ولم يتبين لنا من ھو۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16833»