الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ أَعْضَاءِ السُّجُودِ وَالنَّهْيِ عَنْ كَفِّ الشَّعْرِ وَالثَّوْبِ باب: سجدے کے اعضاء اور بال اور کپڑا لپیٹنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 1737
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ، الْجَبْهَةِ وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى أَنْفِهِ وَالْيَدَيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ وَأَطْرَافِ الْأَصَابِعِ وَلَا أَكُفَّ الثِّيَابَ وَلَا الشَّعْرَ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا کہ میں ان سات اعضا پر سجدہ کروں: پیشانی، اس کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ناک کی طرف اشارہ کیا،دو ہاتھ، دو گھٹنے اور (دونوں پاؤں کی) انگلیوں کے کنارے اور اس بات کا بھی حکم دیا گیا کہ میں کپڑوں اور بالوں کو نہ لپیٹوں۔
وضاحت:
فوائد: … بالوں کو نہ لپیٹنا، اس سے مراد یہ ہے کہ اگر بال لمبے ہیں تو ان کوپگڑی کے نیچے نہ دبایا جائے اور نہ پیچھے سے باندھا جائے، اسی طرح نماز میں آستین وغیرہ کو نہ چڑھایا جائے اور اس طرح بلاضرورت کپڑے کو لپیٹنے سے باز رہا جائے۔