الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ هَيْئَاتِ السُّجُودِ وَكَيْفَ الْهَوِيِّ إِلَيْهِ باب: سجدے کی حالتیں اور اس کے لیے جھکنے کی کیفیت کا بیان
حدیث نمبر: 1734
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ: ((وَإِذَا سَجَدْتَ فَأَمْكِنْ جَبْهَتَكَ مِنَ الْأَرْضِ حَتَّى تَجِدَ حَجْمَ الْأَرْضِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: جب تو سجدہ کرے توزمین پر اپنے ماتھے کو اس طرح جگہ دے حتی کہ تو زمین کا حجم محسوس کرے۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث نمبر (۱۶۸۱)میں اِس حدیث کے آخری جملے کا مفہوم بیان کیا جا چکا ہے۔ ان تمام احادیث کا تعلق سجدہ کی کیفیت اور ہیئت کے ساتھ ہے، اِن اور دیگر احادیث کا خلاصہ یہ ہے، مسند احمد کا حوالہ نہیں دیا گیا: (۱) سجدے میں گرتے وقت گھٹنوں سے پہلے ہاتھ زمین پر رکھیں۔ (ابو داود: ۸۴۰، نسائی: ۱۰۹۰) اس عنوان سجدے کی حالتیں اور اس کے لیے جھکنے کی کیفیت کا بیان میں اس مسئلہ کی وضاحت پیش کی گئی ہے۔
(۲) سات اعضا(ناک سمیت پیشانی، دونوں ہاتھوں، دونوں گھٹنوں اور دونوں پاؤں) پر سجدہ کریں۔ (صحیح بخاری: ۸۱۲، صحیح مسلم: ۴۹۰)
(۳) دونوں ہاتھ پہلوؤں سے دور رکھیں (ابوداود: ۷۳۴، ترمذی: ۲۶۰، ابن ماجہ: ۸۶۳) کہنیاںبھی زمین سے بلند ہوں (صحیح مسلم: ۴۹۴) اور سینہ، پیٹ اور رانیں زمین سے اونچی ہوں، پیٹ رانوں سے اور رانیں پنڈلیوں سے جدا ہوں اور دونوں رانیں بھی ایک دوسرے سے الگ الگ رکھی جائیں۔ (ابوداود: ۷۳۰۔ ۷۳۴، ترمذی:۳۰۴)
(۴) پاؤں کی ایڑیاں ملی ہوں (مستدرک حاکم: ۱/ ۲۲۸، صحیح ابن خزیمہ: ۶۵۴) پاؤں کی انگلیوں کے سرے قبلہ رخ ہوں اور پاؤں کھڑے ہوں۔ (صحیح بخاری: ۸۲۸)
(۵) ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے سے ملی ہوں اور قبلہ رخ ہوں۔ (حاکم: ۱/ ۲۲۷، بیہقی: ۲/ ۱۱۲)
(۶) ہاتھوں کو کندھوں (ابوداود:۸۵۸، ترمذی:۲۵۵، ابن ماجہ:۸۵۸) یا کانوں کے برابررکھیں۔ (نسائی: ۱۱۰۳)
(۲) سات اعضا(ناک سمیت پیشانی، دونوں ہاتھوں، دونوں گھٹنوں اور دونوں پاؤں) پر سجدہ کریں۔ (صحیح بخاری: ۸۱۲، صحیح مسلم: ۴۹۰)
(۳) دونوں ہاتھ پہلوؤں سے دور رکھیں (ابوداود: ۷۳۴، ترمذی: ۲۶۰، ابن ماجہ: ۸۶۳) کہنیاںبھی زمین سے بلند ہوں (صحیح مسلم: ۴۹۴) اور سینہ، پیٹ اور رانیں زمین سے اونچی ہوں، پیٹ رانوں سے اور رانیں پنڈلیوں سے جدا ہوں اور دونوں رانیں بھی ایک دوسرے سے الگ الگ رکھی جائیں۔ (ابوداود: ۷۳۰۔ ۷۳۴، ترمذی:۳۰۴)
(۴) پاؤں کی ایڑیاں ملی ہوں (مستدرک حاکم: ۱/ ۲۲۸، صحیح ابن خزیمہ: ۶۵۴) پاؤں کی انگلیوں کے سرے قبلہ رخ ہوں اور پاؤں کھڑے ہوں۔ (صحیح بخاری: ۸۲۸)
(۵) ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے سے ملی ہوں اور قبلہ رخ ہوں۔ (حاکم: ۱/ ۲۲۷، بیہقی: ۲/ ۱۱۲)
(۶) ہاتھوں کو کندھوں (ابوداود:۸۵۸، ترمذی:۲۵۵، ابن ماجہ:۸۵۸) یا کانوں کے برابررکھیں۔ (نسائی: ۱۱۰۳)