الفتح الربانی
كتاب الإيمان و الإسلام— ایمان اور اسلام کی کتاب
بَابٌ فِي الْوَقْتِ الَّذِي يَضْمَحِلُّ فِيهِ الْإِيمَانُ باب: اس وقت کا بیان، جس میں ایمان انحطاط پذیر ہو جائے گا
حدیث نمبر: 173
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَيُنْقَضَنَّ عُرَى الْإِسْلَامِ عُرْوَةً عُرْوَةً، فَكُلَّمَا انْتَقَضَتْ عُرْوَةٌ تَشَبَّثَ النَّاسُ بِالَّتِي تَلِيهَا وَأَوَّلُهُنَّ نَقْضًا الْحُكْمُ وَآخِرُهُنَّ الصَّلَاةُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کے کنڈوں یعنی اسلام کے احکام کو ایک ایک کر کے گرایا جاتا رہے گا، جب ایک کنڈا گر جائے گا تو لوگ اگلے کنڈے کے درپے ہو جائیں گے، سب سے پہلے جس حکم کو توڑا جائے گا، وہ عدل ہو گا اور سب سے آخر میں نماز کو منہدم کر دیا جائے گا۔“
وضاحت:
فوائد: … سبحان اللہ! جہاں تک عدل و انصاف کا تعلق ہے، تو کئی صدیوں سے اکثر مسلم آبادی میں اس کے آثار مٹ چکے ہیں اور اب نوے فیصد سے زیادہ مسلمانوں نے نماز کو بھی منہدم کر دیا ہے، لیکن دھوکے کی بات یہ ہے کہ وہ بزعم خود پھر بھی کامل مسلمان ہیں۔