الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ هَيْئَاتِ السُّجُودِ وَكَيْفَ الْهَوِيِّ إِلَيْهِ باب: سجدے کی حالتیں اور اس کے لیے جھکنے کی کیفیت کا بیان
حدیث نمبر: 1723
عَنْ شُعْبَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: إِنَّ مَوْلَاكَ إِذَا سَحَدَ وَضَعَ جَبْهَتَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَصَدْرَهُ بِالْأَرْضِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا يَحْمِلُكَ عَلَى مَا تَصْنَعُ؟ قَالَ: التَّوَاضُعُ، قَالَ: هَٰكَذَا رِبْضَةُ الْكَلْبِ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ رُؤِيَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
شعبہ کہتے ہیں: ایک آدمی سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: آپ کا غلام جب سجدہ کرتا ہے تو اپنی پیشانی، بازو اور سینہ زمین پر لگا دیتا ہے۔ انھوں نے اس سے پوچھا: کون سی چیز تجھے اس طرح کرنے پر ابھارتی ہے؟ اس نے کہا: تواضع (کی خاطر ایسا کرتا ہوں)۔سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تو کتے کی ہیئت ہے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ سجدہ کرتے تو بغلوں کی سفیدی نظر آ جاتی تھی
وضاحت:
فوائد: … سجدہ کی حالت میں سینے کو زمین پر نہیں رکھا جا سکتا ہے، اس حدیث کے شروع والے حصے میں جو کیفیت بیان کی گئی ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ جب آدمی پیشانی اور بازوؤں کو زمین پر رکھتا ہے، تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس کا اگلا حصہ زمین پر پڑا ہے۔