حدیث نمبر: 1722
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَعْتَدِلْ وَلَا يَفْتَرِشْ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی سجدہ کرے تو وہ اعتدال کرے اور کتے کی طرح اپنے بازو مت بچھائے۔

وضاحت:
فوائد: … اس مقام پر اعتدال کا مفہوم یہ ہے کہ سجدے میں اپنے بازوؤں کو نہ زمین پر بچھائے اور نہ اپنے جسم کے ساتھ بند کر لے، بلکہ درمیان میں رکھے اور ہتھیلیوں کو زمین پر رکھے اور کہنیوں کو زمین اور پہلوؤں سے اور پیٹ کو ران سے جدا رکھے، کیونکہ اس صورت میں زیادہ عاجزی ہے اور بندہ سستی سے دور رہتا ہے اور پیشانی اچھی طرح زمین پر ٹک جاتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1722
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي علي شرط مسلم۔ أخرجه ابن ماجه: 891، والترمذي: 275 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14384 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14437»