حدیث نمبر: 1715
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ ((سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ)) قَالَ ((اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع کے بعد یہ کہتے تھے: اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمٰوَاتِ وَمِلْئَ الْأَرْضِ وَمِلْئَ مَاشِئْتَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ، أَھْلَ الثَّنَائِ وَالْمَجْدِ أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَ کُلُّنَا لَکَ عَبْدٌ، لَامَانِعَ لِمَا أَعْطَیْتَ وَلاَ یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ۔ (اے اللہ! اے ہمارے رب! تیرے لئے ہی تعریف ہے، آسمانوں کے بھراؤ جتنی، زمین کے بھراؤ جتنی اور ان کے بعد اس چیز کے بھراؤ جتنی جو تو خود چاہے۔ تعریف اور بزرگی والے! جو کچھ بندہ کہتا ہے تو اس کا سب سے زیادہ حقدار ہے اور سب تیرے بندے ہیں، جو تو دینا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا اورکسی شان والے کو اس کی شان تجھ سے کوئی فائدہ نہیں دیتی۔)

وضاحت:
فوائد: … عام طور پر لوگ رکوع کے بعد قومہ میں رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کہنے کو ہی کافی سمجھتے ہیں اور عرصۂ دراز سے ان کییہی روٹین بھی ہے، ایسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عدمِ رغبت کی علامت ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنے بہترین انداز میں اس موقع پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی ہے، لیکن ہمارا نفس ہمیں ایسا کرنے پر آمادہ ہی نہیں کرتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1715
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 477 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11828 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11850»