الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ أَذْكَارِ الرَّفْعِ مِنَ الرُّكُوعِ باب: رکوع سے اٹھ کر اذکار (کرنے) کا بیان
عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي يَوْمًا وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ وَقَالَ ((سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ)) قَالَ رَجُلٌ وَرَاءَهُ: رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنِ الْمُتَكَلِّمُ آنِفًا؟)) قَالَ الرَّجُلُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَقَدْ رَأَيْتُ بِضْعَةً وَثَلَاثِينَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَكْتُبُهَا أَوَّلًا))سیدنا رفاعہ بن رافع زرقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء میں نماز پڑھ رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع سے سر اٹھایا اور سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہا تو آپ کے پیچھے ایک آدمی نے یہ کلمہ کہا: رَبَّنَالَکَ الْحَمْدُ حَمْدًا کَثِیْرًا طَیِّبًا مُبَارَ کًا فِیْہِ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو آپ نے پوچھا: ابھی ابھی کلمات کہنے والا کون تھا؟ اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ میں نے چونتیس پینتیس فرشتے دیکھے، وہ ان کلمات کی طرف لپک رہے تھے کہ کون ان کو سب سے پہلے لکھتا ہے۔
حدیث میں ثلاثین (تیس) کے ساتھ بِضْعَۃٌ کا لفظ آیا ہے جس کا اطلاق تین سے نو تک کے کسی بھی عدد پر ہو سکتا ہے۔ اس لیے ہماری زبان میں بضعۃ کا مفہوم ادا کرنے کے لیے چند کا لفظ مناسب رہے گا یعنی تیس سے چند زائد فرشتے۔ (عبداللہ رفیق)