حدیث نمبر: 1712
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا قَالَ الْإِمَامُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ فَإِنَّ مَنْ وَافَقَ قَوْلَهُ قَوْلَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب امام سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہے تو تم اَللّٰہُمَّ رَبَّنَالَکَ الْحَمْدُ کہو، پس جس کا قول فرشتوں کے قول کے موافق ہوگیا تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ مقتدی کو سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ نہیں کہنا چاہئے، کیونکہیہاں مقتدی کو یہ کلمہ کہنے سے منع نہیں کیا گیا، بلکہ اس کے لیے رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ کہنے کے وقت کا تعین کیا گیا ہے۔ درج ذیل دلائل کی بنا پر ہر کسی کو سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ کہناچاہئے: سَمِعَاللّٰہُلِمَنْحَمِدَہٗ نمازنبوی کی ترتیب میں شامل ہے اور امام کی اقتدا میں اس کے نہ پڑھنے پر دلالت کرنے والی کوئی واضح دلیل نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ کہااورفرمایا: ((صَلُّوْا کَمَا رَاَیْتُمُوْنِیْ اُصَلِّیْ۔)) (بخاری) … تم اس طرح نماز پڑھو جس طرح مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ سیّدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَاتَتِمُّ صَلَاۃٌ لِاَحَدٍ مِنَ النَّاسِ حَتّٰی … یُکَبِّرَ … ثُمَّ یَرْکَعَ … ثُمَّ یَقُوْلَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗحَتّٰییَسْتَوِیَ قَائِمًا۔)) … کسی آدمی کی نماز اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک وہ تکبیر نہ کہے … رکوع نہ کرے … اور پھر سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ نہکہے … (ابوداود،حاکم) یہ حدیث واضح نص ہے کہ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ کےبغیر نماز مکمل نہیں ہوتی، لہٰذا اس کلمہ سے مقتدیوں کو روکنے کے لیے واضح دلیل کی ضرورت ہے۔یہی معاملہ وَلَا الضَّالِّیْنَ اور آمِیْن کا ہے، کہ امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھنے کی فرضیت دوسری نصوص سے ثابت ہو چکی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1712
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 796، 3228، ومسلم: 409، وانظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9923 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9925»