الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ وُجُوبِ الرَّفْعِ مِنَ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَالطُّمَأْنِينَةِ بَعْدَهُمَا وَوَعِيدِ مَنْ تَرَكَ ذَلِكَ باب: رکوع و سجدے سے اٹھنے اور ان کے بعد اطمینان اختیار کرنے کے وجوب¤اور اسے ترک کرنے والے کی وعید کا بیان
حدیث نمبر: 1706
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ أَوِ الرَّكْعَةِ فَيَمْكُثُ بَيْنَهُمَا حَتَّى نَقُولَ: أَنَسِيَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سجدہ یا رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو اس وقت اتنی دیر تک ٹھہرتے کہ ہم یہ کہتے کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھول گئے ہیں؟
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لاتجزیء صلاۃ لا یقیم فیھا الرجل صلبہ فی الرکوع والسجود۔)) (سنن اربعہ) یعنی: اس آدمی کی نماز اسے کفایت نہیں کرتی جو رکوع و سجود میں اپنی کمر سیدھی نہیں کرتا۔ اگر عوام الناس کی عادت کو دیکھا جائے تو درج بالا احادیث انتہائی قابلِ غور ہیں، کیونکہ اکثر لوگ بالخصوص احناف بہت جلد بازی سے نماز ادا کرنے کے مستقل عادی بن چکے ہیں،یوں لگتا ہے کہ رکوع کے بعد قومہ میں اور پہلے سجدے کے بعد جلسہ میں اعتدال کے ساتھ کمر کو سیدھا کرنا ان لوگوں کو گوارا ہی نہیں ہے۔ مجھے اس بات پر حیرانی اور تعجب ہوتا ہے کہ یہ لوگ رکوع و سجود میں تین دفعہ تسبیحات کہنے کا دعوی کرتے ہیں، لیکن کوے کی طرح ٹھونگ لگانے کی مقدار مین یہ عمل پورا کر لیا جاتا ہے۔ درج بالا اور اس موضوع کی دیگر احادیث کا تقاضا یہ ہے کہ رکوع، قومہ، سجدہ اور جلسہ میں اطمینان کرنا ضروری ہے۔ امام مالک، امام شافعی، امام احمد اور کثیر اہل علم اس بات کے قائل ہیں کہ قومہ اور جلسہ وغیرہ میں اطمینان اختیار کرناواجب ہے اور اس کے بغیر نماز صحیح نہیں ہے۔ امام شافعی، امام احمد اور امام اسحاق نے کہا ہے کہ جو نمازیرکوع و سجود میں کمر کو سیدھا نہیں کرتا، اس کی نماز فاسد ہے۔ کثیر احناف کا مشہور قول یہی ہے کہ یہ اطمینان اور اعتدال سنت ہے، واجب نہیں ہے، ان کے اکثر عوام میں عملی طور پر اس سنت کا کوئی لحاظ نہیں رکھا جاتا، بہرحال اس معاملے میں شرعی دلائل کا فیصلہ احناف کے حق میں نہیں ہے۔