الفتح الربانی
كتاب الإيمان و الإسلام— ایمان اور اسلام کی کتاب
بَابٌ فِي الْوَقْتِ الَّذِي يَضْمَحِلُّ فِيهِ الْإِيمَانُ باب: اس وقت کا بیان، جس میں ایمان انحطاط پذیر ہو جائے گا
عَنْ كُرْزِ بْنِ عَلْقَمَةَ الْخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ أَعْرَابِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلْ لِلْإِسْلَامِ مُنْتَهَى؟ قَالَ: ((نَعَمْ، أَيُّمَا أَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْعَرَبِ أَوِ الْعَجَمِ أَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِمْ خَيْرًا أَدْخَلَ عَلَيْهِمُ الْإِسْلَامَ)) قَالَ: ثُمَّ مَاذَا؟ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ((ثُمَّ تَقَعُ فِتَنٌ كَأَنَّهَا الظُّلَلُ، قَالَ الْأَعْرَابِيُّ: كَلَّا، (وَفِي رِوَايَةٍ: كَلَّا وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ) قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((بَلَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَعُودَنَّ فِيهَا أَسَاوِدُ صُبًّا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ))سیدنا کرز بن علقمہ خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بدو نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا اسلام کی کوئی انتہا بھی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں، عرب و عجم کے جس گھر والوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ خیر و بھلائی کا ارادہ کرے گا، ان پر اسلام کو داخل کر دے گا۔“ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! پھر کیا ہو گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر سایوں (یعنی پہاڑوں اور بادلوں) کی طرح فتنے رونما ہو جائیں گے۔“ اس نے کہا: ”ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! اگر اللہ نے چاہا تو ایسے ہرگز نہیں ہو گا۔“ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم خبیث ترین بڑے سانپ کی طرح ہو کر ایک دوسرے کی گردنیں مارنے کے لیے جھپٹ پڑو گے۔“