حدیث نمبر: 17
(وَعَنْهُ فِي أُخْرَى) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ: ((إِنِّي حَرَّمْتُ عَلَى نَفْسِيَ الظُّلْمَ وَعَلَى عِبَادِي، أَلَا فَلَا تَظَالَمُوا، كُلُّ بَنِي آدَمَ يُخْطِئُ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ثُمَّ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرُ لَهُ فَلَا أُبَالِي، وَقَالَ: يَا بَنِي آدَمَ! كُلُّكُمْ كَانَ ضَالًّا إِلَّا مَنْ هَدَيْتُ، وَكُلُّكُمْ كَانَ عَارِيًا إِلَّا مَنْ كَسَوْتُ، وَكُلُّكُمْ كَانَ جَائِعًا إِلَّا مَنْ أَطْعَمْتُ، وَكُلُّكُمْ كَانَ ظَمْآنًا إِلَّا مَنْ سَقَيْتُ، فَاسْتَهْدُونِي أَهْدِكُمْ، وَاسْتَكْسُونِي أَكْسُكُمْ، وَاسْتَطْعِمُونِي أُطْعِمْكُمْ، وَاسْتَسْقُونِي أَسْقِكُمْ، يَا عِبَادِي! لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ (فَذَكَرَ نَحْوَ الْحَدِيثِ الْمُتَقَدِّمِ وَفِيهِ: لَمْ يَنْقُصُوا مِنْ مُلْكِي شَيْئًا إِلَّا كَمَا يَنْقُصُ رَأْسُ الْمِخْيَطِ مِنَ الْبَحْرِ)))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

(دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ تعالیٰ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”میں نے ظلم کو اپنے آپ پر اور اپنے بندوں پر حرام قرار دیا ہے، خبردار! پس ایک دوسرے پر ظلم نہ کرنا، ساری اولادِ آدم دن رات غلطیاں کرتی ہے، پھر جب مجھ سے بخشش طلب کرتی ہے تو میں بخش دیتا ہوں اور کوئی پروا نہیں کرتا۔“ اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا: ”اے بنو آدم! تم سارے گمراہ تھے، مگر جس کو میں نے ہدایت دی، تم سارے ننگے تھے، مگر جس کو میں نے لباس دیا، تم سارے بھوکے تھے، مگر جس کو میں نے کھانا کھلایا، تم سارے پیاسے تھے، مگر جس کو میں نے پانی پلایا، پس تم مجھ سے ہدایت طلب کرو، میں تم کو ہدایت دوں گا، تم مجھ سے لباس طلب کرو، میں تم کو لباس دوں گا، تم مجھ سے کھانا طلب کرو، میں تم کو کھلاؤں گا اور مجھ سے پانی طلب کرو، میں تم کو پلاؤں گا۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے اور پچھلے… سابقہ حدیث کی طرح ذکر کیا اور اس میں ہے تو وہ میری بادشاہت میں کوئی کمی نہ کر سکیں گے، مگر اتنی جیسے سوئی کا نکہ سمندر میں کمی کا باعث بنتا ہے۔“

وضاحت:
فوائد: … مراد یہ ہے کہ جیسے سوئی کے نکے میں پھنسنے والے پانی سے سمندر کے پانی میں کوئی کمی نہیں آتی، اس طرح ساری مخلوقات کے مطالبات پورے کرنے سے اللہ تعالیٰ کے لامتناہی خزانوں میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب التوحيد / حدیث: 17
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2577، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21420 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21750»