حدیث نمبر: 1697
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، قَالَ: فَانْتَبَهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ، قَالَ: فَرَأَيْتُهُ قَالَ فِي رُكُوعِهِ ((سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ)) ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَحَمِدَ اللَّهَ مَا شَاءَ أَنْ يَحْمَدَهُ، قَالَ: ثُمَّ سَجَدَ فَكَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ ((سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى))، قَالَ: ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ: فَكَانَ يَقُولُ فِيمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ: ((رَبِّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاجْبُرْنِي وَارْفَعْنِي وَارْزُقْنِي وَاهْدِنِي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس رات گزاری، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو بیدارہوئے، پھر مکمل حدیث ذکر کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کیارکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ کہا، پھر اپنا سر اٹھایا اور اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کی، جب تک اس نے چاہا، پھر سجدہ کیا اور سجدے میں ((سُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعْلٰی)) کہا، پھر سر اٹھایا اور دو سجدوں کے درمیان یہ دعا کی: رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَاجْبُرْنِیْ وَارْفَعْنِیْ وَارْزُقْنِیْ وَاھْدِنِیْ۔ (اے میرے رب! مجھے بخش دے ،مجھ پر رحم فرما، میرا نقصان پورا کر، مجھے رزق دے اور مجھے ہدایت دے۔)

وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع میں مختلف اذکار کا اہتمام کرتے تھے، ہمیں بھی اس ورائٹی کا خیال رکھنا چاہیے، اس سے نماز کے خشوع و خضوع میں اضافہ ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1697
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن۔ أخرجه الطبراني: 12679، وأخرجه ابوداود: 850، وابن ماجه: 898، والترمذي: 284 بذكر الدعاء بين السجدتين فقط ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2895، 3514 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3514»