الفتح الربانی
كتاب الإيمان و الإسلام— ایمان اور اسلام کی کتاب
بَابٌ فِي الْوَقْتِ الَّذِي يَضْمَحِلُّ فِيهِ الْإِيمَانُ باب: اس وقت کا بیان، جس میں ایمان انحطاط پذیر ہو جائے گا
عَنْ عَلْقَمَةَ الْمُزَنِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ قَالَ: كُنْتُ فِي مَجْلِسِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِالْمَدِينَةِ فَقَالَ لِرَجُلٍ مِنَ الْقَوْمِ: يَا فُلَانُ! كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْعَتُ الْإِسْلَامَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ جَذْعًا، ثُمَّ ثَنِيًّا، ثُمَّ رَبَاعِيًّا، ثُمَّ سُدَاسِيًّا، ثُمَّ بَازِلًا)) فَقَالَ عُمَرُ: فَمَا بَعْدَ الْبُزُولِ إِلَّا النُّقْصَانُعلقمہ مزنی رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے ایک بندے نے بیان کرتے ہوئے کہا: میں مدینہ منورہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی مجلس میں تھا، انہوں نے ایک شخص سے کہا: ”اے فلاں! تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا فرماتے ہوئے سنا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کی کیفیت بیان کر رہے تھے؟“ اس نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: بیشک اسلام کی ابتدا (پانچویں سال میں داخل ہونے والے) نوجوان اونٹ کی طرح ہوئی، پھر وہ چھٹے سال میں داخل ہونے والے اونٹ کی طرح قوی ہو گا، پھر وہ ساتویں سال میں داخل ہونے والے اونٹ کی طرح طاقت ور بنے گا، پھر آٹھویں سال میں داخل ہونے والے اور پھر نویں سال میں داخل ہونے والے اونٹ کی طرح طاقت حاصل کرے گا۔“ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اونٹ کی عمر کے نویں کے بعد تو کمزوری شروع ہو جاتی ہے۔“