حدیث نمبر: 1688
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عُثْمَانَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ هَانِئِ بْنِ مَعَاوِيَةَ الصَّدَفِيِّ حَدَّثَهُ قَالَ: حَجَجْتُ زَمَانَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَجَلَسْتُ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا رَجُلٌ يُحَدِّثُهُمْ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَأَقْبَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى فِي هَٰذَا الْعَمُودِ فَعَجَّلَ قَبْلَ أَنْ يُتِمَّ صَلَاتَهُ ثُمَّ خَرَجَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ هَٰذَا لَوْ مَاتَ لَمَاتَ وَلَيْسَ مِنَ الدِّينِ عَلَى شَيْءٍ، إِنَّ الرَّجُلَ لَيُخَفِّفُ صَلَاتَهُ وَيُتِمُّهَا، قَالَ فَسَأَلْتُ عَنِ الرَّجُلِ مَنْ هُوَ؟ فَقِيلَ عُثْمَانُ بْنُ حَنِيفٍ الْأَنْصَارِيُّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ہانی بن معاویہ صدفی کہتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں حج کیا، میں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بیٹھا ہوا تھا، وہاں ایک آدمی لوگوں کو حدیث بیان کررہا تھا، اس نے کہا: ہم ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھے کہ ایک آدمی نے آکر اس ستون کے پاس نماز پڑھی اور اس نے اپنی نماز پور ی کرنے میں جلدی کی اور پھر وہ چلا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ شخص مر جائے تو اس حالت میں مرے گا کہ دین کی کسی چیز سے یہ متصف نہیں ہو گا۔ آدمی اپنی نماز مکمل کرتے ہوئے بھی تخفیف کر سکتا ہے۔ میں نے اس (حدیث بیان کرنے والے) آدمی کے بارے میں پوچھا کہ یہ کون ہے؟ مجھے بتایا گیا کہ یہ سیدنا عثمان بن حنیف انصاری رضی اللہ عنہ ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، اس کی اصل اگلی حدیث ہے۔ اس کا بغور مطالعہ کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1688
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لسوء حفظ ابن لھيعة، ولجھالة حال البراء بن عثمان و ھانئ بن معاوية الصدفي۔ أخرجه: الطبراني في الكبير : 8310 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17243 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17375»