الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ مِقْدَارِ الرُّكُوعِ وَصِفَتِهِ وَالطُّمَأْنِينَةِ فِيهِ وَفِي جَمِيعِ الْأَرْكَانِ عَلَى سَوَاءٍ باب: رکوع کی مقدار، اس کے طریقہ اور اس میں اور تمام ارکان میں برابر کا اطمینان رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1687
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَكَعَ لَوْ وَضِعَ قَدْحٌ مِنْ مَاءٍ عَلَى ظَهْرِهِ لَمْ يُهْرَقْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رکوع کرتے تو (ایسے برا برہوتے تھے) کہ اگر پانی کا پیالہ آپ کی پیٹھ پر رکھا جائے تو وہ بھی نہ بہتا۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح مسلم کی روایت سے بھی اس حدیث کا معنی ثابت ہو جاتا ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رکوع کرتے تو سر کو نیچے کرتے نہ اوپر، بلکہ ان کیفیتوں کے درمیان میں رکھتے تھے۔ نیز درج حدیث بھی قابل توجہ ہے: سیدنا ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَاتُجْزِیئُ صَلَاۃُ الرَّجُلِ حَتّٰی یُقِیْمَ ظَھْرَہٗفِیْ الرُّکُوْعِ وَالسُّجُوْدِ۔)) … ایسی نماز کفایت نہیں کرتی جس کے رکوع و سجدہ میں آدمی اپنی پیٹھ (بالکل) سیدھی نہ کرے۔ اس سنت لازمہ پرعمل کرنا صرف اس وقت ممکن ہے جب آدمی اعتدال اور اطمینان کے ساتھ نماز پڑھے گا۔ (ابوداود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)