الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ مِقْدَارِ الرُّكُوعِ وَصِفَتِهِ وَالطُّمَأْنِينَةِ فِيهِ وَفِي جَمِيعِ الْأَرْكَانِ عَلَى سَوَاءٍ باب: رکوع کی مقدار، اس کے طریقہ اور اس میں اور تمام ارکان میں برابر کا اطمینان رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1685
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى فَرَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَإِذَا سَجَدَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ، وَبَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز پڑھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رکوع، رکوع سے سر اٹھا کر کھڑا ہونا، سجدہ اور سجدوں سے سر اٹھا کر بیٹھنایعنی دو سجدوں کے درمیان والا جلسہ تقریباًبرابر برابر ہوتے تھے۔ (صحیح بخاری: ۷۹۲، صحیح مسلم: ۴۷۱)
وضاحت:
فوائد: … صحیح مسلم کی روایت میں ان امور کے ساتھ قیام اور تشہد کا بھی ذکر ہے، یعنییہ تمام چیزیں برابر برابر ہوتی تھیں، بہرحال اس صورت کو بعض حالات پر محمول کریں گے، کیونکہ زیادہ تر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قیام طویل ہوتا تھا، اسی طرح تشہد بھی رکوع و سجود اور قومہ و جلسہ کی بہ نسبت لمبا ہوا کرتا تھا، جیسا نمازوں کی قراء ت والے ابواب مین یہ تفصیل گزر چکی ہے۔